لکھنو18اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سنگھ سربراہ موہن بھاگوت کے رام مندرکی تعمیر کے لیے قانون بنانے کی مانگ کا ایودھیا کے سادھو سنتوں نے خیر مقدم کیاہے۔ایودھیا کے وشوہندوپریشدکے رہنماؤں نے بھی کہاہے کہ بھاگوت نے ان کے من کی بات کہی ہے۔ایودھیا کے سنتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مندر تحریک میں شہید ہوئے کارسیوکوں کو حکومت اپنا خراج عقیدت پیش کرے۔آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ناگپور میں وجے دشمی کے موقع پر رضاکاروں کے سامنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔اس دوران انہوں نے کہا کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیرکے لیے قانون بنناچاہیے۔لوگ سوال کر رہے ہیں کہ آخر ان کی منتخب حکومت ہونے کے باوجود رام مندر کی تعمیر کیوں نہیں ہو رہا ہے؟ ان کے اس خیال پر سنتوں نے اپنی رائے دی۔شری رام جنم بھومی ٹرسٹ صدر مہنت نرتیہ گوپال داس نے کہاہے کہ رام جنم بھومی پر مندر تعمیر دنیا کے ہندوؤں کا خواب ہے۔مندر تحریک ملک کی آزادی کی طرح مذہبی اور ثقافتی آزادی حاصل کرنے کا بگل ہے۔ مہنت گوپال داس نے کہا کہ مندر کی تعمیر ہو کر رہے گی۔یہ سچ ہے لیکن اس میں اتحادی ہر کسی کوبننا ہوگا۔ان مانیں تو بی جے پی کے منشور میں مندر کی تعمیر ہے، تو اب اس پر توجہ مرکوز کرکے موہن بھاگوت کے خیالات پرمودی حکومت آگے بڑھے۔وجے دشمی کے موقع پر دیا گیا ان کابیان ہندوؤں کے جذبات کا احترام ہے۔سدگروسدن کی مہنت سیاکشوری شرن مہار اراج نے کہاہے کہ رام ہماری آستھاکے مرکزہیں۔تنظیم کوچلانے والے کا بیان سنجیدہ ہی نہیں آج کے موجودہ حالات کو دیکھ کر ہے۔مرکزی حکومت کاانتخاب بھارت کے ہندوؤں نے رام جنم بھومی پر مندر تعمیر کے ساتھ ہندوؤں کے مذہبی عقائد کے تحفظ کے لیے کیا تھا۔ اب حکومت کی باری ہے۔سنکادک آشرم کے آچاریہ اورمرکزی مارگ درشک منڈل رکن مہنت کنہیا داس نے کہا کہ بھاگوت کے بیان سے رام جنم بھومی کے لیے تحریک چلا رہے رام سیوک پرامید ہوئے ہیں۔وشو ہندو پریشد کے ترجمان شرد شرما نے کہا سرسنگھ چالک ہمارے خاندان کے سربراہ ہیں۔ان کا پیغام ہی خاندان کے لیے صاف اشارہ ہے۔حکومت اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور قانون بنا کر مندر تحریک کا احترام کرے۔